تہران(نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی جب فریقین نے ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں اردن، قطر، بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب گزشتہ شب امریکی فوج نے بھی ایران کے مختلف علاقوں پر نئی فضائی کارروائیاں کیں جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر کے اطراف کا علاقہ بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے ازرق (Azraq) فوجی اڈے پر 10 بیلسٹک میزائل داغے جہاں امریکی فوجی اور فضائیہ کے اہلکار تعینات ہیں۔
البتہ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 8 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ ایرانی حملوں میں جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تاہم مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ان کے نشانے پر ہوں گے۔
ایران کے قطر، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر بھی ڈرون حملے
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے قطر، بحرین اور کویت پر بھی ڈرون حملے کیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر میں ابتدائی انتباہی نظام پر حملہ کیا گیا جب کہ بحرین میں امریکی فوج کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے ذخائر کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب کویتی فوج نے کہا کہ ایران کے 3 بیلسٹک میزائل، ایک کروز میزائل اور دس ڈرون مار گرائے ہیں۔
اسی طرح بحرین نے بھی فضائی حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ قطر نے فوری طور پر کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
مزید پڑھیں۔بے روز گار افرد کے لیے بڑی خوشخبری ، ملازمت کا سنہری موقع




