اسلام آباد: آٹے کی قیمتوں میں اضافہ نے ملک بھر کے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض شہروں میں یہ اضافہ 1250 روپے تک پہنچ گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی بدستور ملک کا سب سے مہنگا شہر ہے جہاں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک سال قبل تقریباً 1800 روپے تھی، جو بڑھ کر اب 2900 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پشاور اور بنوں میں ایک سال کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 1250 روپے اضافہ ہوا، جبکہ کوئٹہ اور خضدار میں 1200 روپے، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 1173 روپے، سکھر میں 1140 روپے اور کراچی و حیدرآباد میں تقریباً 1100 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گوجرانوالہ میں آٹے کا 20 کلو تھیلا 1083 روپے، بہاولپور میں 1013 روپے جبکہ سیالکوٹ، ملتان اور لاڑکانہ میں تقریباً ایک ہزار روپے مہنگا ہوا۔ فیصل آباد میں 950 روپے، لاہور میں 850 روپے اور سرگودھا میں 806 روپے اضافہ سامنے آیا۔
دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں ایک سال کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1627 روپے سے بڑھ کر 2800 روپے، راولپنڈی میں 1613 روپے سے بڑھ کر 2786 روپے، لاہور میں 1400 روپے سے بڑھ کر 2250 روپے جبکہ فیصل آباد میں 1400 روپے سے بڑھ کر 2350 روپے ہو گئی۔
اسی طرح پشاور، کوئٹہ، خضدار، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام شہریوں، خصوصاً کم آمدن والے طبقے کے لیے تشویش کا باعث ہے، جبکہ مہنگائی کے مجموعی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔



