کراچی: ایرانی ریال کی قیمت مسلسل گراوٹ کے بعد تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان میں بعض سرمایہ کار اور کرنسی خریدار کم قیمت کے باعث ایرانی ریال خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماہرین نے تاہم خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اس قسم کی سرمایہ کاری خطرات سے خالی نہیں۔
تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی 2026 کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً 19 لاکھ 18 ہزار ریال تک گر گئی، جو اس سے قبل مئی میں قائم ہونے والے تقریباً 19 لاکھ ریال کے ریکارڈ سے بھی کم سطح ہے۔
اسی عرصے کے دوران برطانوی پاؤنڈ تقریباً 25 لاکھ 80 ہزار ایرانی ریال جبکہ ایک یورو 21 لاکھ 90 ہزار سے زائد ایرانی ریال میں ٹریڈ ہوتا رہا، جس سے ایرانی کرنسی کی مسلسل کمزوری واضح ہوتی ہے۔
ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ برقرار
معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث ملک میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2026 کے دوران ایران میں مہنگائی کی شرح 69 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ معیشت میں 6.1 فیصد سکڑاؤ کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی، بین الاقوامی پابندیاں، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں رکاوٹیں، نقل و حمل کے مسائل اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے درآمدی اشیا، خام مال اور ادویات کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت
پاکستان میں بینکوں اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں فرق برقرار ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایک ایرانی ریال تقریباً 0.000202 پاکستانی روپے کے برابر ہے، یعنی ایک پاکستانی روپے کے عوض تقریباً 4,950 ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں مختلف شہروں کے حساب سے نرخ مختلف دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں 6 ہزار سے 7 ہزار پاکستانی روپے میں تقریباً ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے جا رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی دلچسپی، مگر ماہرین نے خبردار کر دیا
کرنسی ڈیلرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستانی خریداروں کی جانب سے ایرانی ریال کی خریداری میں دلچسپی دیکھی گئی ہے۔ بعض سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آئی یا سیاسی صورتحال بہتر ہوئی تو ریال کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاہم مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی اور سیاسی حالات کے باعث ایسی سرمایہ کاری میں غیر معمولی خطرات موجود ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل معلومات اور احتیاط ضروری ہے۔

