Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

پیٹرول کی قیمتیوں پر روزانہ نظرثانی سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟ ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہرِ معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی کا فیصلہ درست سمت میں اقدام تو ہے مگر مکمل اصلاحات کے بغیر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ جب تک پورے پیٹرولیم سیکٹر میں جامع اصلاحات نہیں کی جاتیں، اس کے ثمرات عام صارفین تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی دراصل مارکیٹ کو بتدریج ڈی ریگولیٹ کرنے کی کوشش ہے لیکن اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ اداروں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے موجودہ ماحول میں صرف روزانہ یا مختصر مدت کی بنیاد پر قیمتیں تبدیل کرنے سے عوام کو فوری ریلیف ملنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کا تعین محض ایک دن کی عالمی قیمت کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ تقریباً 7روز کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا، تاہم اس طریقہ کار کی مکمل وضاحت اور اس پر عمل درآمد کا واضح نظام سامنے آنا چاہیے تاکہ تمام فریق اسے بخوبی سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق اس وقت پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ریگولیٹری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنا، مقامی تیل و گیس کی تلاش بڑھانا اور مسابقتی مارکیٹ قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے بقول صرف قیمتوں کے تعین کا طریقہ تبدیل کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کی اصل تشویش پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں اور لیوی سے متعلق ہے کیونکہ یہ بالواسطہ ٹیکس امیر اور غریب دونوں سے یکساں وصول کیا جاتا ہے، جو منصفانہ نظام نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید زیادہ آمدن کا ہدف رکھا ہے، جس پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔

ماہرِ معیشت نے تجویز دی کہ حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی بات چیت کرنی چاہیے تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم سے کم ڈالا جاسکے۔

مزید پڑھیں۔سونا پھر مہنگا ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی ؟

یہ بھی پڑھیں