Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کوپاؤڈر بھرا مشکوک خط موصول

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کیطرف سے لکھے گئے خط کے بعد نئی صورتحال سامنے آئی ہے جس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدالتی عمل میں مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس پیشرفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے ججوں کو لفافے میں نامعلوم پاؤڈر کے ساتھ مشکوک خطوط موصول ہوئے۔ خطوط میں دھمکی دینے والی علامت بھی شامل تھی جس کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وقار حسین نامی ریشم نامی خاتون نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز کو اپنا پتہ لکھے بغیر خط بھیجے۔ ججز کے عملے نے خط کھولے تو اندر پاؤڈر تھا۔

  مزید پڑھیں:  چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے اسحاق ڈار پریزائیڈنگ افسر مقرر

اسلام آباد پولیس کی ماہر ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

یہ واقعہ IHC کے چھ ججوں نے عدالتی معاملات میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) کو خط لکھے جانے کے ایک ہفتے بعد پیش آیا ہے۔

ججوں کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے گئے اس خط کا مقصد عدلیہ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی دراندازی اور ججوں پر پڑنے والے غیر ضروری اثر و رسوخ کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں