Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

انٹرنیٹ بند ہونے سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا اظہار برہمی

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ بند ہونے سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا سائٹ ایکس اور انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ نے تسلیم کیا کہ اس نے ایکس کی بندش کے لیے پی ٹی اے کو لکھا تھا، لیکن ایکس بند کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ایکس کیوں بند کیا گیا ہے؟ کیا آج بھی ایکس چل رہا ہے یا نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایکس کل چل رہا تھا، میں ہدایات لیتا ہوں کہ ایکس چل رہا ہے یا نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں ایکس کی بندش سے متعلق وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن بھی پڑھ کر سنایا۔عدالت میں وکیل نے کہا کہ سوشل میڈیا ایپ پر جھوٹی خبروں پر 50 کروڑ تک جرمانہ ہو سکتا ہے، سوشل میڈیا بند کرنے سے پہلے سروس پرووائیڈر کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

 مزید پڑھیں:  ن لیگ کو بہت بڑا جھٹکا ، ایک دن میں دونشستیں ہاتھ سے نکل گئیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں0 4 سے 50 ملین لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں، وی پی این کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار بہت کم ہے، ایکس کو قلم کے ایک جھٹکے سے روک دیا گیا ہے جس کی ہمیں اوپر سے معلومات ملی ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں ہدایات لینے کا وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ صرف ایکس کیوں بند کیا گیا ہے؟ آپ نے ملک چلانا ہے، آپ زمینی حقائق جانتے ہیں۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مزید کہا کہ آپ ملکی مفاد سے آگاہ ہیں، کچھ چیزیں ہاتھ سے نکل رہی ہیں کسی کے لیے فائدہ مند نہیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ادارے اور عدالتیں کس لیے ہیں؟ ہم عوام کے لیے ہیں، ہم عوام ہیں اس لیے ایسے عہدوں پر بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری اور قومی مفاد ضروری ہے، ایکس کی بندش سے متعلق لکھے گئے خط کی وجوہات بتائیں۔

یہ بھی پڑھیں