Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

عمران خان کاملکی حالات پر آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ

راولپنڈی (نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے ملکی صورتحال پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نے شیر افضل مروت کو شوکاز دینے کی وجہ بھی بتادی.

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کے لیے بہت اچھا کام کیا لیکن سیاسی جماعت میں دائرے میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی کئی بار وضاحت کی۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ شیر افضل مروت ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی رہنما پر حملہ کرتے تھے، شیر افضل مروت کو سمجھایا کہ جنگ باہر والوں سے ہے پارٹی کے اندر نہیں۔

پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ شیر افضل مروت نے سعودی وفد کے دورے کے موقع پر متنازعہ بیان دیا جب کہ محمد بن سلمان نے میری درخواست پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی دو کانفرنسیں منعقد کیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کے لیے بہت کام کیا لیکن وہ بار بار پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں، شیر افضل مروت اب بھی پارٹی پالیسی پر عمل کریں تو کوئی حرج نہیں۔ جو حکم جاری ہوا ہے اس کا جواب دو گے تو ٹھیک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ خفیہ رکھنا پراپرٹی ٹائیکون اور نیشنل کرائم ایجنسی کا مطالبہ تھا، برطانیہ میں پیسہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ مشکوک ٹرانزیکشنز کی وجہ سے پکڑا گیا،سول عدالت میں کیس چلتا تو مزید پانچ سال تک پیسے پاکستان نہ آسکتے، بیرون ملک عدالتوں میں مختلف کیسوں میں پاکستان کے پہلے ہی 100 ملین ڈالر ضائع ہو چکے، 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق انکوائری نیب میں بند کی جاچکی تھی جو دو سال بعد دوبارہ کھولی گئی، سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جو 35 ارب روپے آئے اس پر 13 ارب کا منافع بھی بن چکا ہے، بنجر زمین پر القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بنائی جو بچوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے توشہ خانہ سے 6 لاکھ روپے میں بلٹ پروف گاڑی خریدی، انہیں بری کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ زرداری نے توشہ خانہ سے تین کاریں لیں اور وہ عدالت سے استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ کوئی ایک کروڑ روپے کی جائیداد کی فروخت کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہے۔ وہ میرے خلاف توشہ خانہ کا چوتھا مقدمہ چلانے جا رہے ہیں۔ میں زرداری اور نواز شریف کی طرح ملک سے باہر نہیں جاؤں گا۔

عمران خان نے زور دے کر کہا کہ ملکی صورتحال پر آرمی چیف کو خط لکھوں گا، عوامی مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانا ہو گی، اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ملک کی ٹیکس کلیکشن 13.3 ٹریلین ہے، 9.3 ٹریلین ہم نے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں، اس طرح سے 24 کروڑ اآبادی کا ملک کیسے چلے گا، ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو نہیں رہا سرمایہ کاری کے لیے کوئی تیار نہیں، بجٹ سے پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا تنخواہ دار طبقہ سڑکوں پر ہوگا۔

اے بی این نیوز کی اینکر علینہ شگری نے کہا کہ عمران کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ عمران خان آرمی چیف کے نام خط لکھ چکے ہیں یہ چھ نکاتی خط ہے۔ اب اس کو پبلک کرنے کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اسے کب پبلک کیا جائے گا۔

حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ خط آرمی چیف کو لکھا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان نے کچھ حقائق پسند چیزیں اس میں لکھی ہیں ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ملکی موجودہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری ایک شخص پر جاتی ہے ۔ اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بزنس کونسل کی بات دیکھی جائے تو ملک کا سرمایہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔

لوگ حالات کی وجہ سے ملک کو چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں ۔عمران خان کے قریبی ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ عوام کی آنکھ میں دھول جو کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے اور اس کی ذمہ داری انہوں نے ایک شخص پر عائد کی ہے واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اس سے پہلے چیف جسٹس کے نام بھی ایک خط لکھا کے پی ٹی آئی کو جو صورتحال کا سامنا ہے.

اس کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی اور بتایا کہ الیکشن کے بعد کی جو صورتحال ہے اس کا بھی انہوں نے ذکر کیا تھا۔ اب یہ خط جو آرمی چیف کے نام لکھا ہے کچھ عرصے بعد منظر عام پر آئے گا ۔ یہ ایک بہت اہم ڈیویلپمنٹ ہوگی اور عمران خان اس خط میں جو سنگین الزامات لگا رہے ہیں وہ اہمیت کے حامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس خط میں وہ ریفرنڈم کا بھی ذکر کریں گے کہ حقیقی نمائندگان وہ ہیں جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہی اس ملک کے مالک ہے ملک کو جو بھی نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ملک کو جو نقصان ہو رہا ہے وہ کسی کے فائدے میں نہیں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں