اسلام آباد: پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ 2030 تک ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں حکام کی جانب سے پیش کی گئی بریفنگ میں کیا گیا۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کے حکام نے ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور آبادی پر قابو پانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈی جی ہیلتھ نے بتایا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان کی آبادی 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ آئندہ چند برسوں میں بھی آبادی میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔
آبادی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تقریباً 2 ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری ہے تاکہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو متوازن بنایا جا سکے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2022 کے دوران حکومت نے 1 کروڑ 10 لاکھ مانع حمل مصنوعات خریدی تھیں، تاہم ان میں سے بڑی تعداد اب بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی اور مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
8 سال سے ڈیموگرافک سروے نہ ہونے پر اظہارِ برہمی
اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان میں ہر پانچ سال بعد ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے ہونا چاہیے، لیکن گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ اہم سروے نہیں کرایا گیا، جس کے باعث تازہ اور مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
اس صورتحال پر قائمہ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ آبادی، صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق درست پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تعلیم، صحت، روزگار، خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر مؤثر منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔