لاہور: پنجاب حکومت نے سی ایم پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تیسرے مرحلے کے تحت مویشی پال کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری دے دی ہے۔ سی ایم پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے ذریعے اہل فارمرز 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکتے ہیں، جس کا مقصد لائیو اسٹاک کے شعبے کو مضبوط بنانا اور کسانوں کو معاشی سہارا فراہم کرنا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اسکیم کے تیسرے مرحلے میں درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس مالی معاونت کے ذریعے مویشی پال افراد اپنے جانوروں کے لیے خوراک، سائلج، منرل مکسچر اور دیگر منظور شدہ غذائی اشیا رجسٹرڈ ڈیلرز سے خرید سکیں گے۔
اس بار اسکیم میں ایک نئی سہولت بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت منظور شدہ قرض کی مجموعی رقم کا 25 فیصد تک نقد رقم نکالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فارمرز کو دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے میں آسانی فراہم کرنا ہے۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
حکومت کی جانب سے جاری کردہ شرائط کے مطابق درخواست گزار کا پنجاب کا رہائشی ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 20 بچھڑے یا بھینس کے کٹے موجود ہوں۔
درخواست گزار کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور اپنے نام پر رجسٹرڈ فعال موبائل نمبر بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تمام جانور لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہونے چاہییں۔
درخواست کیسے جمع کرائیں؟
اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا آغاز 15 جولائی 2026 سے کیا جا چکا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے مویشی پال فارمرز سرکاری پورٹل پر آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ قریبی سرکاری ویٹرنری ہسپتال یا لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے سہولت مراکز سے بھی رجسٹریشن، جانوروں کی تصدیق اور درخواست کے عمل میں رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے نہ صرف کسانوں کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے میں بھی مدد ملے گی، جس سے لائیو اسٹاک کا شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔
