Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

ہم نے کسی حکومت، ادارے یا ایجنسی کی ’’بی‘‘ ٹیم نہیں بننا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نیوزڈیسک)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے کہاہے کہ ہم نے کسی حکومت، ایجنسی یا ادارے کی بی ٹیم نہیں بننا، سسٹم میں بہتری کے لیے سب نے مل کرکام کرنا ہے، ججز نے، وکلا نے اور متعلقہ ایجنسیوں نے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، اگلے جہان میں ہمارا حساب ہوگا تو کوئی ساتھ نہیں کھڑا ہوگا، احترام اس وقت تک ہے جب تک عدالتوں کا احترام کیا جائے گا، اگر عدالتوں کا احترام نہیں تو ہم سے بھی احترام کی توقع نہ رکھیں۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پری سروس ٹریننگ کور کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان کا کہنا تھا عدل کرنا بہت بڑی ذمے داری ہے، ججز بغیر خوف کےکام کریں، جج کو قانون پر دسترس ہونی چاہیے اور جج کو کسی کے پریشر میں نہیں آنا چاہیے، ججز جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں، جلد اور فوری انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، پنجاب میں ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا آغاز کریں گے۔

مزیدپڑھیں:پی آئی اے نے چترال کا سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے بڑی پیشکش کا اعلان کردیا

ان کا کہنا تھاکہ پنجاب میں 14 لاکھ کیسز ہیں، ججوں کی کمی کا سامنا ہے، مقدمات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہڑتالیں ہیں، اداروں کی آپس کی لڑائی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، ان سے ہوشیار رہیں جو اداروں کو لڑوانا چاہتے ہیں۔

جسٹس شہزاد احمد خان کا کہنا تھا مجھ سمیت ہرجج کے دل میں وکیل کا بڑا احترام ہے، کسی بار، کسی ادارے اور حکومت کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ہم نے کسی حکومت، ایجنسی یا ادارے کی بی ٹیم نہیں بننا، سسٹم میں بہتری کے لیے سب نے مل کرکام کرنا ہے، ججز نے، وکلا نے اور متعلقہ ایجنسیوں نے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھاکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، اگلے جہان میں ہمارا حساب ہوگا تو کوئی ساتھ نہیں کھڑا ہوگا، احترام اس وقت تک ہے جب تک عدالتوں کا احترام کیا جائے گا، اگر عدالتوں کا احترام نہیں تو ہم سے بھی احترام کی توقع نہ رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں