Search
Close this search box.
پیر ,27 جولائی ,2026ء

پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، ایران امریکا مذاکرات کی بحالی پر آمادہ

اسلام آباد: پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے اپنے جوابات ثالث ممالک کے حوالے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان معطل سفارتی مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اسلام آباد میمورنڈم کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران مذاکرات کے دوران سب سے پہلے آبنائے ہرمز، اس کے بعد بیرونِ ملک منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ تاہم تہران نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کی مخالفت کے اپنے مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔

دوسری جانب یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر کسی نئی فوجی کارروائی کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی اہداف کے خلاف کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکا نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اسی لیے جب امریکا کی جانب سے حملے نہیں ہوئے تو ایران نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل رکھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں مزید کمی آسکتی ہے بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی برسوں سے تعطل کا شکار سفارتی عمل بھی دوبارہ بحال ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں