اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے پنشن اسکیم میں 13 ترامیم تجویز کی ہیں۔ذرائع کے مطابق پہلی ترمیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ سے دو سال قبل ان کی تنخواہ کے ستر فیصد کے برابر مجموعی پنشن ملے گی۔دوسری ترمیم ملازمین کو پچیس سال کی سروس کے بعد رضاکارانہ طور پر ریٹائر ہونے کی اجازت ہوگی۔
تیسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے سے کم از کم تین سال قبل رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کا انتخاب کرنے والوں کو پنشن میں پانچ سے بیس فیصد سالانہ کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔چوتھی ترمیم ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم پر سالانہ پنشن میں اضافے کی بنیاد رکھتی ہے۔
پانچویں ترمیم سالانہ پنشن میں اضافے کو الگ رقم کے طور پر دیکھتی ہے۔ چھٹی ترمیم کا حکم ہے کہ پے اینڈ پنشن کمیشن ہر تین سال بعد بیس لائن پنشن کا جائزہ لے۔ساتویں ترمیم ایک پنشنر کے خاندان کو دس سال تک پنشن حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
دسویں ترمیم پنشنرز کے بچوں کے لیے تاحیات پنشن فراہم کرتی ہے اگر وہ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہوں۔ گیارہویں ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمت میں شامل ہونے والوں کو پنشن یا تنخواہ مل سکتی ہے۔
بارہویں ترمیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایک سرکاری ملازم دوبارہ ملازمت کرنے پر صرف ایک محکمے سے پنشن وصول کر سکتا ہے۔تیرہویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں سرکاری ملازم ہیں تو دونوں کو ریٹائرمنٹ پر پنشن ملے گی۔




