اسلام آباد(زبیرقصوری)پاکستان میں آ ئس کریم فروخت کرنے والی امریکی کمپنی باسکن روبن کیخلاف 10 ملین ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کی شکایت پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا .
اس سے قبل مذکورہ کمپنی کیخلاف ٹیکس چوری اور دیگر الزامات پر پنجاب ریونیو اتھارٹی نے تین ارب سے زائد کا جرمانہ عائدکیاتھا.
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے لاہور ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ شکایت نمبر222 / 2023
ایف آئی اے لاہور کوموصول ہوئی تھی جس پر ابتدائی تحقیقات کے بعد کمپنی کے نامزد اہلکاروں کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے.
اس کے علاوہ ایف آئی اے کی طرف سے حکومتی اداروں ایف بی آر پاکستان اور کسٹم پاکستان کو بھی لیٹر جاری کیا گیا ہے.
تمام بینکوں اور دیگر اداروں سے تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں.
ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شراز عمر نے بتایا کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تا ہم کسٹم پاکستان کی طرف سے مکمل جواب نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی.
اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز ورک سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا.
ایف ائی اے کے ذرائع نے بتایا کہ مقامی شہری عبدالقیوم حفیظ کی طرف سے امریکی آئس کریم فروخت کرنے والی کمپنی باسکن روبن کے بارے میں سینکڑوں صفحات پر مشتمل کاغذات اور درخواست ایف آئی اے لاہور کو دی گئی جس پر تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں.
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ کمپنی 2017 میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد پاکستان میں کاروبار کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں ٹیکس چوری کے علاوہ منی لانڈرنگ کے کاروبار میں بھی ملوث ہے. درخواست میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے بھی تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے جس پر وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں.
درخواست میں کہاگیا ہے کہ کمپنی دبئی کے ذریعے امریکہ میں 10 ملین ڈالر سے زائد رقم غیر قانونی طریقے سے منتقل کیے ہیں اور اس حوالے سے دستاویزات بھی ساتھ لگائی گئی ہیں.
آئس کریم فروخت کرنے والی کمپنی جو کہ پاکستان میں اے ایچ جی فلیورز پرائیویٹ لمٹڈ کے نام سے رجسٹرڈ ہے نے باسکن روبن آئس کریم کے ذریعے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کا استعمال کیا ہے .
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی انٹر لنک ٹریڈنگ جو کہ دبئی میں ایک رجسٹرڈ کمپنی اس کو استعمال کرتے ہوئے انڈر انوائسنگ اور دیگر ٹیکس چوری کی وارداتیں کرتے ہوئے بھی قومی خزانے کو عربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے.
مزید بتایا گیا ہے کہ انٹرلینٹ کمپنی پاکستان سے منی لانڈرنگ کے کاروبار میں ملوث ہے اور یہ باسکن روبن پاکستان اور دبئی کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کی سہولت فراہم کرتی ہے .
رابطہ کرنے پر کمپنی کے چیئرمین عرفان مصطفی اور سربرا جبران مصطفی نے بتایا کہ ہماری کمپنی قانون کے مطابق کام کر رہی ہے اور الزامات ہمارے کمپنی کے ایک ملازم نے لگائے ہیں جس میں کوئی حقیقت اور صداقت نہ ہے. پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ایف آئی اے لاہور کی انکوائری کے بارے میں انہوں نے کسی قسم کا جواب دینے سے گریز کیا .
انہوں نے کہا کہ جو بھی معاملہ ہے ہماری قانونی ٹیم اس معاملے کو دیکھ لے گی.
رابطہ کرنے پر درخواست دہندہ قیوم حفیظ نے بتایا کہ انہوں نے درخواست کے ساتھ مکمل ثبوت لگائے ہیں جس پر ایف آئی اے لاہور ایف آئی آر درج نہیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت داخلہ کو بھی درخواست دی ہے کہ ڈائریکٹر لاہور سرفراز ورک کو ساری صورتحال کا پتہ ہے، اس کے باوجود وہ ایف آئی آر درج نہیںکی جارہی ہے .
انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کی تلاش میں ہیں.
انہوں نے مزید کہاکہ قومی خزانے کا اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے تاہم ایف آئی اے لاہور کے لوگ خاموش بیٹھے ہوئے ہیں.

