Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حکومت کاپنجاب میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیج متعارف کرانے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے پیر کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندوں کو صوبے میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیج متعارف کرانے کے ارادے سے متعلق بتایا۔جی ایم سیڈز متعارف کرانے کا اہم معاملہ وزیر زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی اور ملٹی نیشنل سیڈ کمپنیوں کے سربراہان کے درمیان یہاں ایگریکلچر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

اجلاس میں کپاس، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کے بیجوں کی جدید ٹیکنالوجی میں ایجادات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ کپاس ملکی معیشت کے لیے ایک نقد آور فصل ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں اور جدید بیج ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے کپاس کی فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ کپاس، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کے جدید زیادہ پیداواری بیج کسانوں کی دہلیز پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ پیداواری اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

سید عاشق حسین کرمانی نے اہم فصلوں کی جدید سیڈ ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کے جدید پیداواری منصوبوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کے حامل بیجوں کی اختراع وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقی اداروں، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت اسامہ خان لغاری اور سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی ساہو کے ہمراہ وزیر نے کہا کہ فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے نئی اقسام کے بیجوں کی مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔اس موقع پر سید عاشق حسین کرمانی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی جن کا جائزہ لے کر منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ کو بھجوایا جائے گا۔

کسان برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس سال زراعت کے ترقیاتی بجٹ میں 250 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ کسانوں کی خوشحالی کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کے کسان دوست اقدامات جیسے کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر سکیم، ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اور زرعی مالز کی بدولت صوبے میں زرعی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس سال چیف منسٹر انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو بھی بھرتی کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

میٹرک کے امتحانی فارم جمع کرانے کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ،دیکھیں

یہ بھی پڑھیں