Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

9 ستمبر گرفتاریاں: ایاز صادق نے اسپیکر کا عہدہ چھوڑنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک )قومی اسمبلی کے 9 ستمبر کے اجلاس کے موقعے پر ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز کی گرفتاریوں اور اس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے تنقید کے تناظر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا انہیں اس عہدے پر رہنا چاہیے یا نہیں۔

جمعرات کو اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے شیخ وقاص اکرم کی تنقید کے جواب میں ایاز صادق نے کہا کہ ’مجھے سوچنا پڑے گا کہ اس نشست پر رہنا ہے یا نہیں‘۔

شیخ وقاص نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم این ایز کو اسمبلی کے چوتھے فلور سے گرفتار کیا اور پھر اس دروازے سے باہر بھی لے گئے جو بند ہونے چاہیے تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سہولت کاری کی گئی۔

تحریک انصاف کے رہنما کی باتوں پر اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ ان باتوں سے لگتا ہے کہ اسمبلی میں اس دن جو کچھ ہوا اس میں ساری کوتاہی میری ہے اور اگر ایسا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔

تاہم اس کے بعد ایاز صادق اپنی نشست پر ہی رہے اور ایسا کوئی تاثر نہیں ملا کہ وہ اسپیکرشپ کسی اور کے حوالے کرکے ایوان سے جانا چاہ رہے ہوں۔

اسمبلی سے خطاب کے دوران شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہمیں دکھ یہ نہیں کہ ہمارے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور گرفتاریاں ہوئیں بلکہ اصل دکھ اس بات کا ہے کہ اس مقدس ایوان کا تقدس پامال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تھے اور ہم چھت پر گئے لیکن وہاں بھی (پکڑنے والے) لوگ پہنچ گئے۔

شیخ وقاص کا کہنا تھا کہ یہاں سمجھ نہیں آتی کہ کس نے اجازت دی انہیں اندر آنے کی۔

اس بات پر اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ’آپ سب کی باتوں سے یوں لگ رہا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ میری اجازت سے ہوا اور اگر ایسا ہی ہے تو مجھے اندر جا کر سوچنا چاہیے کہ مجھے یہاں رہنا چاہیے یا نہیں‘۔
مزیدپڑھیں :شرح سود میں کمی: کیا اب گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوجائینگی؟

یہ بھی پڑھیں