کراچی(نیوز ڈیسک)حکومت کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر پر برس پڑے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک 30 ستمبر کو بطور سرکاری مہمان ملائیشیا سے بذریعہ اسلام آباد ایئرپورٹ پاکستان پہنچے تھے جہاں ان کا وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ عہدیداروں نے استقبال کیا۔
معروف مبلغ نے پاکستان پہنچ کر وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد اہم شخصیات سے ملاقات کی۔
جس کے بعد وہ چند روز قبل 10 دن کے دورے پر کراچی پہنچے جہاں گورنر ہاؤس میں ان کے اعزاز میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس کے لیے علاوہ ان کے لیے 2 عوامی لیکچرز کا بھی انتظام کیا گیا جہاں انہوں نے مخلتف موضوعات پر دینی رہنمائی کرنے کے علاوہ شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔
ایسے ہی ایک لیکچر کے دوران ذاکر نائیک اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی روداد سناتے ہوئے قومی ایئرلائن کے افسر پر برس پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ ملائیشیا سے پاکستان آرہے تھے تو وہ اور ان کے ہمراہ موجود لوگوں کے ساتھ موجود سامان کا وزن 1000 کلو تھا، جس پر میں نے پی آئی اے کے سی ای او سے بات کی۔
اسکالر کے مطابق اس سلسلے میں جب میں نے کنٹری مینیجر سے رابطہ کیا تو اس نے آگے سے کہا کہ ‘ڈاکٹر صاحب آپ کے لیے کچھ بھی کروں گا’، میں نے انہیں بتایا کہ ‘6 افراد ہیں اور سامان کا وزن 500-600 کلو زیادہ ہے’۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘افسر نے کہا کہ آپ ڈریں مت میں اضافی سامان پر لاگو ہونے والی رقم پر 50 فیصد رعایت دوں گا، جس پر میں نے جواب دیا کہ دینا ہے تو فری دو ورنہ مت دو اور اس کی پیشکش ٹھکرادی’۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ‘یہ رویہ پاکستان ایئرلائن کا تھا اگر بھارت میں کوئی بھی غیر مسلم مجھے دیکھے گا تو فری میں چھوڑے گا، یہ ہے انڈیا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘بھارت میں اگر کوئی غیر مسلم ڈاکٹر ذاکر نائیک کو دیکھتا ہے تو ہزار سے 2 ہزار کلو چھوڑ دیتا ہے’۔
‘اور یہ پاکستان ہے، میں حکومت کا مہمان ہوں، میرے ویزے پر لکھا ہے اسٹیٹ گیسٹ، اور آپ کے پی آئی اے کے سی ای او کہتے ہیں کہ وہ 50 فیصد ڈسکاؤنٹ دیں گے جبکہ ایک کلو اضافی وزن کے 110 رنگٹ (7 ہزار 135 پاکستانی روپے) چارج کررہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘مجھے اتنا دکھ ہوا کہ میں بحیثت ریاستی مہمان پاکستان میں آرہا ہوں اور وہ 300 کلو سامان نہیں چھوڑ سکتے کہ 50 فیصد رعایت دیں گے، مجھے نہیں چاہیے ایسا ڈسکاؤنٹ’۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک 11 اکتوبر کو لاہور پہنچیں گے اور وہاں بھی عوامی اجتماع سے خطاب کرئیں گے جس کے بعد وہ دوبارہ اسلام آباد روانہ ہوجائیں گے۔
بلڈی کرپٹ “ششٹم” ، غور سے سنئیے 👇 pic.twitter.com/RftVU6ZApJ
— Jameel Farooqui (@FarooquiJameel) October 7, 2024
مزیدپڑھیں :سونا ایک مرتبہ پھرمہنگا،قیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،جانیں

