Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سینیٹ کا اجلاس شروع، 26ویں آئینی ترامیم ایوان میں پیش کردی گئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چھبیسویں آئینی ترامیم کی منظوری کیلئے چئیرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت میں سینیٹ کا اجلاس بالآخر شروع ہو گیا ہے۔ ایوان میں 64 سینیٹرز موجود ہیں جبکہ 4 وفاقی وزرا میں کارروائی میں شامل ہیں۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا تو قائد ایوان اسحاق ڈار نے ایوان میں وقفہ سوالات اور معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک پیش کی اور اس تحریک کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خطاب میں کہا کہ آئینی ترمیمی بل پر اسپیکر کی ہدایت پر کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی میں بغور اس کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کو بل کو سپلیمنٹری ایجنڈے میں دیا گیا ہے لہٰذا اس کو ٹیک اپ کیا جائے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی میں کافی بات چیت کی گئی، اپوزیشن نے بھی کمیٹی میں بحث میں حصہ لیا اور ایک مسودہ پر اتحادی جماعتوں کا اتفاق ہوا، یہ ایک متفقہ بل ہے جس پرکامران مرتضیٰ کی ترامیم بھی ہیں۔

اس کے بعد وزیرقانون اعظم نزیرتارڑ نے آئین میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار 18ترمیم میں تبدیل کیا گیا، 19ویں ترمیم نے آئین کے توازن کو بگاڑا، 19ویں ترمیم عجلت میں منظورکی گئی۔ 18ہویں ترمیم میں منظور جوڈیشل کمیشن کو مجبور کرکے عجلت میں 19ویں ترمیم منظور کروائی گئی، کمیشن کا جھکاؤ ایک ادارے کی طرف کرکے پارلیمانی کمیٹی کے اختیار میں کمی کردی گئی، پاکستان بھرکی بار باڈیز نے اس پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کی اصل روح بحال کی جائے، سپریم کورٹ اور پاکستان بار کونسل نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا۔

وزیر قانون کے مطابق مناسب سمجھا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیشن کی نئی شکل جو بنی اسے آج لایا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں چار سینئیر ترین ججز کے ساتھ ساتھ چار پارلیمانی لیڈرز شامل کئے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب قومی اسمبلی تحلیل ہوگی تو اس وقت سینیٹ سے اراکین کمیشن میں جائیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی غیرمسلموں یا خواتین سے ایوان کے باہر سے ایک رکن مقرر کریں گے جو ٹیکنوکریٹ کی شرائط پر پورا اترتا ہوگا۔

قومی اسمبلی کی صورت حال
ایک طرف سینیٹ کی کارروائی جا ری تھی تو دوسری جانب قومی اسمبلی میں ہل چل مچی ہوئی تھی۔ سینیٹ میں بل پیش ہوتے ہی نواز شریف اور حمزہ شہباز 26ویں آئینی ترامیم پر رائے شماری میں حصہ لینے کیلئے خصوصی طیاروں سے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ پانچ آزاد اراکین کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا، جنہیں پارلیمنٹ ہاؤس کی چوتھی منزل پر رکھا گیا، اس دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے مذکورہ حصے میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے۔

ذرائع نے کہا کہ مذکورہ پانچوں اراکین حکومتی بل کی حمایت کریں گے، ان اراکین میں سے دو کا تعلق جنوبی پنجاب، دو کا وسطی پنجاب اور ایک کاتعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

ذرائع کے مطابق جیسے ہی قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگا مذکورہ اراکین کو ایوان میں پہنچا دیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں :زین ملک نے لیام پین کے غم میں بڑا فیصلہ لے لیا

یہ بھی پڑھیں