Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

مفتی طارق مسعود پر فائرنگ کی متضادخبریں،حقیقت کیا؟ جانیں

کراچی میں معروف عالم دین مفتی طارق مسعود کی گاڑی پر فائرنگ کی خبریں وائرل ہوئی ہیں، جس کے بعد پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی حرکت میں آگئی ہے۔سوشل میڈیا پر زیر گردش اطلاعات کے مطابق مفتی طارق مسعود کی گاڑی پر کراچی کے علاقے گھگھر پھاٹک کے قریب فائرنگ کی گئی۔سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور جاں بحق اور مفتی طارق مسعود شدید زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ہی اس حوالے سے متضاد خبریں اور تردید بھی سامنے آرہی ہے۔فائرنگ کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض صارفین کا کہنا ہے کہ نہ یہ گاڑی مفتی طارق مسعود کی ہے اور نہ ہی کوئی فائرنگ کا واقعہ ہوا ہے بلکہ یہ خبر ہی فیک ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ مفتی طارق مسعود پر حملے اور ان کی گاڑی پر فائرنگ کی ایک بےبنیاد خبر سوشل میڈیا پر چلائی جارہی ہے، اس خبر میں کوئی صداقت نہیں، الحمدللہ مفتی صاحب خیریت سے ہیں۔مفتی طارق مسعود نے بھی کراچی میں اپنی گاڑی پر فائرنگ کی خبروں کی تردید جاری کردی ہے۔

مفتی طارق مسعود کے آفیشل فیس بُک اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’مفتی صاحب بحمد اللّٰہ خیریت و عافیت سے ہیں، حملے کی افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں‘۔دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے کراچی میں علماء کرام پر قاتلانہ حملے کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، پولیس نے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی اے سے رابطہ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ افواہیں پھیلانے والے تمام اکاؤنٹ ایف آئی اے کو فراہم کیے جائیں گے، دو روز سے ملیر کے مختلف علاقوں میں علما کی گاڑی پر فائرنگ کی جھوٹی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، سوشل میڈیا پر کئی علما کی تصاویر اور گاڑی پر فائرنگ کی جھوٹی تصویریں وائرل کر کے خوف پھیلایا جا رہا ہے، ایسے تمام شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں