اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جسٹس یحییٰ آفریدی نے گزشتہ روز ملک کے 30ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا، ایوان صدر میں منعقدہ حلف برداری کی اس مختصر سی تقریب میں دیگر مہمانان گرامی کے ساتھ ساتھ نئے چیف جسٹس کی والدہ بھی شریک تھیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے احترماً اپنی نشست سے اٹھ کر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی والدہ کو ان کی نشست پر جا کر مبارک باد پیش کی، ان کی والدہ نے آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کے قبیلے، خاندان اور تمام افراد کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بھی جسٹس یحییٰ آفریدی کا چیف جسٹس بننا فخر کی بات ہے کیونکہ پاک فوج کے ایک قابل افسر کا بیٹا آج چیف جسٹس آف پاکستان بنا ہے، جس نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی۔
جسٹس یحیٰی آفریدی کے والد عمر خان آفریدی کیپٹن اور انگلینڈ کی معروف سینڈ ہرسٹ ملٹری اکیڈمی کے گریجویٹ تھے، انہوں نے بعد میں پاک فوج چھوڑ کر سول سروس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
لاہور کے ڈویژنل کمشنر رہنے کے بعد نومبر 1983 میں عمر خان آفریدی ایڈمنسٹریر اسلام آباد تعینات ہوئے تھے اور بعد ازاں کمشنر لاہور سے ترقی پاکر 21 ویں گریڈ میں اسلام آباد کے چیف کمشنر بنے تھے۔
عمر خان آفریدی 1994 میں صدر مملکت فاروق لغاری کے پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان کے عبوری وزیر داخلہ بھی بھی رہ چکے ہیں۔
مزیدپڑھیں :’جنہیں جیلوں میں ہونا تھا وہ عہدوں پر ہیں‘،شیر افضل مروت اپنی ہی حکومت پر برس پڑے


