اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بھاگنے والی عورت نہیں ہوں، سب سے کہا تھا کہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا لیکن پھر بھی ڈی چوک پر اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا، جو لوگ روڈ خالی کرا رہے تھے وہ بھی اس بات کے گواہ ہیں۔
بشریٰ بی بی اسلام آباد دھرنے میں جاں بحق ہونے والے تاج الدین کے گھر چارسدہ پہنچ گئیں، لواحقین کو ایک کروڑ کا چیک دیتے ہوئے کہا کہ پٹھانوں نے ہمیشہ غیرت مندی کا ثبوت دیا ہے، خان کے لیے نکلنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔
انہوں نے چارسدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ ڈی چوک میں اکیلی تھیں۔ سمجھ نہیں آرہا تھا لوگ جھوٹ کیوں بول رہے تھے، ڈی چوک پر رات ساڑھے 12بجے وہ گاڑی میں اکیلی تھیں۔
’میں وہاں سے نہیں ہٹی تھی کیونکہ خان نے ہٹنے کا نہیں کہا تھا، جب میں وہاں سے نہیں جارہی تھی تو سیدھی میری گاڑی پر فائرنگ ہوئی، باقی قافلہ بعد میں آیا‘۔
بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا شہدا کے گھر جانا، ورکرز بانی کے نام پر شہید ہوئے ہیں، شہادتوں کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں پہلی بار ہندو پولیس آفیسر کی تعیناتی، نوجوان روپ متی بھی منزل پانے کو تیار

