Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

حافظ نعیم نے طالبعلموں کےرزلٹ سے متعلق حقیقت بیان کردی

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 64 فیصد طلبہ کا فیل ہونا سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے نتائج میں 64 فیصد طلباء و طالبات کو فیل کردیا گیا، یہ سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ہے کہ یہ نظام کیسے چل رہا ہے؟

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر یہ بچے واقعی فیل ہوئے ہیں تو یہ پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے اور اگر زبردستی فیل کیا گیا ہے تو یہ ایک انتہائی مکروہ قسم کا کام ہے، جو حکومت کی جانب سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے انٹر بورڈ میں تبدیلی کی تھی، اپنی مرضی کے چیئرمین لاکر بٹھایا تھا، ان کے جانے کے بعد نگراں حکومت تھی، انہوں نے معاملات کو کمشنر کے حوالے کردیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم سے دشمنی والے رویے نے کراچی اور طلباء و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے، کیونکہ ہمارے بچوں کے مستقبل اور ان کے روزگار کا مسئلہ ہے، پورے شہر کا انحصار ان نواجوں پر ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ 312ارب روپے میں سے کتنے پیسے تعلیم، بچوں کی ڈویلپمنٹ پر لگائےجاتے ہیں؟حافظ نعیم نے بتایا کہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے 13لاکھ بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ زرداری، بلاول بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں کہ ہم پنجاب کو سندھ جیسی ترقی دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں