Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کیا سعودی ایئر لائن ’فلائی آ ڈیل‘ کے پاکستان آنے سے ٹکٹ سستے ہو جائیں گے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سعودی عرب کی سستی ترین ایئر لائن ”فلائی آ ڈیل“ کی آئندہ ماہ فروری سے پاکستان کے لیے آپریشنز شروع ہوجائیں گے جس کے بعد قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ اس نئے آپریشنز سے ٹکٹ کی قیمت میں کتنا فائدہ ہوگا۔

ایئر لائن کی ویب سائٹ کے معلومات کے مطابق یہ پروازیں 3 فروری 2025 سے شروع ہوں گی اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور تجارتی شہر جدہ سے کراچی کے درمیان دو بار ہفتہ وار دستیاب ہوں گی۔

اعلامیہ کے مطابق تین فروری کو ”فلائی آ ڈیل“ کی پہلی فلائٹ جدہ سے پاکستان کے کراچی ایئر پورٹ کے لیے مقامی وقت کے مطابق رات دو بج کر 45 منٹ پر پرواز کرے گی۔

’فلائی آ ڈیل‘ ایئر لائن کے سی ای او اسٹیون گرین وے نے گذشتہ دنوں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ثقافتی اور تاریخی روابط کی بنا پر اور دونوں ممالک کے درمیان کمرشل، عازمین اور خاندانوں کے روابط کے پیش نظر فضائی سفر کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے جلد ہی ایئر لائن اپنا نیا فضائی راستہ کھول رہی ہے۔

’فلائی آ ڈیل‘ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر اپنے آپریشنز کو بڑھانے کا ایک وسیع سلسلہ ہے اور یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پہلی باقاعدہ سروس کی شروعات ہو گی۔

پاکستان میں سول ایوی ایشن کے ترجمان اور ڈائریکٹر ایوی ایشن سکیورٹی شاہد قادرنے تصدیق کی کہ ’فلائی آ ڈیل‘ کو پاکستانی حکام کی طرف سے اجازت نامہ مل چکا ہے اور وہ ہفتے میں دو دن کراچی اور دو دن لاہور سے جدہ اور ریاض کے لیے اپنی سروسز فراہم کرے گی۔

انھوں نے بتایا کہ یہ نئی سروس اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے سروس فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے اور یہ بہت مثبت اور خوش آئند ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عام فلائٹس میں کھانا کھاؤ نہ کھاؤ، سامان کا وزن ایک معیاد سے زیادہ ہو یا نہ ہو تب بھی آپ کو مخصوص رقم ادا کرنا ہی ہوتی ہے اس لیے ان کی ٹکٹ مہنگی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس نئی فضائی کمپنی کے آنے سے اثر یہ ہو گا کہ ایئرلائنز کے درمیان مقابلہ بڑھے گا اور ٹکٹوں کی قیمتیں کم ہوں گی اوراس کا زیادہ فائدہ مسافروں کو ہو گا۔

قومی ائیر لائن پی آئی اے کے سابق مارکیٹنگ ڈائریکٹر ارشاد غنی کا کہنا ہے کہ اب یہ پاکستان سے سعودی عرب جانے اور آنے والی ائیر لائنز کے درمیان مقابلہ ہو گا اور اس کا یقینا فائدہ مسافروں کو ہوگا۔

فلائی اے ڈیل اس وقت دبئی، عمان، استنبول اور قاہرة کے لیے اپنی پروازیں آپریٹ کر رہی ہے۔ ان مقامات کے بعد اب فلائی اے ڈیل سعودی عرب کے مختلف شہروں جیسے ریاض، جدہ اور دمام سمیت دیگر شہروں کے لیے پروازیں آپریٹ کرے گی۔

انہون نے کہا کہ چونکہ فلائی آ ڈیل کم خرچ یعنی سستی سروس ہے اس لیے اگر کمپنی کی بجائے صارف کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ صارفین کے لیے سستے سفر کی ایک نئی امید دکھائی دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی فلائٹس جس میں صارفین سے کھانے پینے اور سامان کے وزن کا معاوضہ اس کے استعمال کی صورت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ سستی پڑتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی تمام ائیر لائنز سعودی عرب کے تمام ائیر پورٹ پر جا سکتی ہیں اس طرح سعودی ائیر لائنز بھی پاکستان آ سکتی ہیں۔

ایوی ایشن کے ماہر افسر ملک کے مطابق اوپن اسکائیز معاہدے کے تحت ہر دو ملک ایک دوسرے کی ائیر لائنز کو اپنے کسی بھی شہر میں سروس فراہم کرنے کی اجازت دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

ٹکٹ فروخت کرنے والی ایک اور نجی کمپنی سے منسلک معین اختر کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے لیے اس وقت ہمارے پاس تین ملکی فضائی سروسز ہیں جن میں پی آئی اے، ائیر سیال، ائیر بلیو اور ایک سعودی ائیر لائن کا آپشن ہے اور اب ایک اور یعنی فلائی آ ڈیل کا اضافہ ہو جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک مصروف روٹ ہے اور سارا سال ٹکٹس کی فروخت نہ صرف عمرے اور حج کے لیے جانے والوں کی ہوتی ہے بلکہ وہاں کام کے لیے موجود پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد آتی جاتی ہے۔

ان کے مطابق اس وقت عمرے کا ٹکٹ پاکستانی کرنسی میں ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ ستر ہزار کے درمیان ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ نئی ائیر لائن کے آنے سے یہ قیمت دس سے پندرہ ہزار تک کم ہو گی اور نتیجتاً دیگر ائیر لائنز بھی مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے ٹکٹ کی قیمت میں کچھ کمی کریں گی

معین اختر نے بتایا کہ ’فی الحال تو فلائی آ ڈیل کا نام ہماری فہرست میں اپ گریڈ نہیں ہوا تاہم وہ کہتے ہیں کہ جتنی زیادہ آپشنز ہوں گی صارفین کے لیے ٹکٹ اتنا ہی سستا ہو جائے گا۔

جبکہ بین الاقوامی پروازوں پر جانے والے مسافر بھی راستے میں عمرہ کرنے کے لیے چند دن جدہ کا روٹ استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ 2021 میں سعودی عرب میں شروع ہونے والی ایک بجٹ اور سستی ایئر لائن ہے جس نے گذشتہ برس پاکستانی عازمین حج کے لیے بھی اپنی سروسز فراہم کی تھیں اور فی الحال بین الاقوامی سطح پر اس کے سعودی عرب کے علاوہ مختلف ممالک میں آپریشنز جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:کوئی ویکسین نہیں، چین میں پھیلا ’ایچ ایم پی وی‘ وائرس کیا ہے اور کتنا خطرناک ہے؟

یہ بھی پڑھیں