اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں بائیک رائیڈر پر تشدد کرنے والی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
شکیل احمد نامی شہری نے اسلام آباد جی سیون تھانے میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ 2 سال سے اسلام آباد میں بائیکیا چلا رہے ہیں، 17 جنوری کو اسلام آباد میں پولی کلینک اسپتال کے باہر ایک خاتون نے اپنی گاڑی سے ان کی بائیک کو پیچھے سے ہٹ کیا۔
شکیل احمد نے درخواست میں کہا ’خاتون کی جانب سے بائیک کو ہٹ کرنے پر میں نے موٹرسائیکل روکی تو خاتون نے 2بار مجھے تیزرفتاری سے ہٹ کرنے کی کوشش کی، میں نے اس کی گاڑی کے بانٹ پرہاتھ رکھا گاڑی رک گئی اور میرا موٹر سائیکل بھی گر گیا تو اچانک عورت گاڑی سے باہر نکل آئی، جو ٹرؤزر شرٹ میں ملبوس تھی۔‘
درخواست گزاز کا کہنا ہے کہ خاتون گاڑی سے نکلتے ہی مجھ پر حملہ آور ہوئی اور گالیاں دیتے ہوئے مجھے مارنا شروع کردیا، کافی لوگ اس جگہ پر موجود تھے لیکن وہ کسی صورت مجھے مارنے سے نہیں رکی اور نازیبا الفاظ سے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
’اس نامعلوم خاتون نے لاپرواہی اور تیزرفتاری سے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی بذریعہ درخواست استدعا ہے کہ اس نامعلوم عورت کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘
بائیکیا ڈرائیور کی درخواست پر اسلام آباد کے ویمن تھانے میں خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب شکیل احمد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ ایک پرائیویٹ ادارے میں کام کرتے ہیں اور چھٹی کرکے جارہا تھا، پولی کلینک اسپتال کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ سڑک کنارے رش لگا ہے، جس کی وجہ سے میں آہستہ آہستہ بائیک چلا رہا تھا، پیچھے سے گاڑی نے مجھے ہٹ کیا جس سے مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا، گاڑی نے مجھے پھر ہٹ کیا، جس سے میں تھوڑا سا سائیڈ پر ہوگیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے بائیک سائیڈ پر کرلی تو گاڑی نے مجھے پھر ہٹ کیا جس سے میری بائیک نیچے گرگئی، میں اٹھا تو پھر مجھے ہٹ کرنے کی کوشش کی، میں نے غصے میں گاڑی کے بانٹ پر ہاتھ مارا اور پوچھا یہ کیا ہے۔
’جیسے ہی میں نے بانٹ پر ہاتھ مارا تو گاڑی سے ایک خاتون نکلی اور مجھ سے ہاتھا پائی کی، مجھے دھمکی دی کہ آپ کو ایسی جگہ پہنچاؤں گی کہ آپ کو پتا ہی نہیں لگے گا کہ کہاں گئے۔
مزیدپڑھیں:وزیر خزانہ نے ٹیکس دہندگان کو خوش خبری سنادی

