Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

عدلیہ کے ٹوتھرڈ مینڈیٹ دلانے کے بعد اب ستائیسویں ترمیم لائیں یا اٹھائیسویں فرق نہیں پڑتا ،ماہر قانون عابد زبیری

اسلام آباد(اوصاف نیوز)سابق صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیر کا کہنا تھا کہ جنوری سے اب تک عمران خان کی درخواستوں پر سماعت ہی نہیں کی گئی مجھے نہیں لگ رہا کہ عمران خان کے کیسز کو مزید اتنا جلدی نہیں سنا جائےگا۔

، تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے ممبران کی نااہلی سے قبل اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی نے چیف جسٹس کو خط لکھا ماہر قانون حافظ احسان کھو کھر کا علینہ شگری کے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نہ تیس دن میڈیٹی پریڈ ہےکہ تیس دن کے اندر نااہل کرنا ہے یا تیس دن کے بعد کرنا ہے ۔ نہ ہی 90دنوں کا میڈیٹی پریڈ ہے ۔ جس دن جو شخص ڈس کوالیفائی کردیا جاتا ہے اس کا نوٹیفکیشن اسی دن سے ری کال آئے گا جس طرح ان کا نوٹیفکیشن آیا ہے جس کا پندرہ ہے اور کسی کا سولہ ہے اس کے بعد اگلا جو پراسیس ہے وہ الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن کرے گابائی الیکشن کا جو کہ کل وہ بھی آنے کے امکانات ہیں۔

ماہر قانون حافظ احسان کھو کھر کا کہنا تھا کہ پورے ملک کے اندر ایک ہی بندے کو پولیٹیسائزڈ کیا گیا اسی کو پولیٹیکل اور ٹرن کرنے کی کوشش کی گئی۔اس کو سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ ، ،ملٹری لاز کے اندر لایا گیا ٹرائلز کو اکھٹا کیا جاتاایک اپیل کردیتے پی ٹی آئی کی پولیٹیکل سٹریٹیجی اور جوڈیشل سٹریٹیجی دونوںکے اندر سیریس لیپس ہیں ۔مگرا س کا رزلت نکلتا ہے کہ آپ اس سارے پراسس کو بائیس کرتےہیں جب آپ ایک طرف کہتے ہیں جو بھی شخص ملوث ہےاس کو سزا ملنی چاہیےتو پھر آپ اس پراسیس کے اندر جائیںآپ جھبیسویں آئینی ترمیم سے پہلے یہ جتنی بھی عدلیہ کے فیصلے آئے ہیں وہ جج وہی ہیں جو ترمیمی آئین سے پہلے تھے ۔ اس کے بعد کوئی نئی تقرریاں ہی نہیں ہوئیںکیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے جتنے بھی فیصلے آئے ٹرن ڈون نہیں کئے ۔ صرف اور صرف جوڈیشری کو ٹارگٹ کرنا یہ مناسب نہیں ہے ۔ ہاں فورم پر جائیں اپیل کریں اور اس کے بعد ریلیف وہ آپ کا بنتا ہے ۔ ۔عمران خان کیخلاف جتنے بھی عدالتی فیصلے آئے ان کیسز میں جان ہی نہیں تھی ۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریقوںکو سنا جائے ۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنی جارہی ہے تو کیا ہوگا اس ملک میں کوئی انصاف نہیں ہے ۔ سابق چیف جسٹس نے پی ٹی آئی سے جماعت چھین لی ، انتخابی نشان چھین لئے ۔ اس عدلیہ نے حکمرانوں کو ٹو تھرڈ میجارٹی دیدی ہے اب ستائیسویں آئینی ترمیم ہو یا اٹھائیسویں آجائے اس سے فرق نہیں پڑتا ۔کیونکہ سپریم کورٹ نے ایک جماعت کا مینڈیٹ چھین کر ان لوگوں کی جھولی میں ڈالا جو الیکشن بھی ہار چکے تھے انہیں سپریم کورٹ بینچ نے ٹو تھرڈ میجارٹی دیدی۔

یہ بھی پڑھیں