Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

پاکستان کی فضائی برتری ایمان، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے، خالد چشتی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ برتری، بھارت کی فضائی کمزوری اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فضائی قوت تین بنیادی عناصر پر مشتمل ہے جن میں ایمان اور شہادت کا جذبہ، اعلیٰ تربیت اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہی کی بدولت پاک فضائیہ نے ہمیشہ دشمن پر برتری حاصل کی۔

خالد چشتی نے کہا کہ بھارت اب بھی پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر مگ 21 طیاروں کا ذکر کیا جنہیں بھارتی عوام خود ’’فلائنگ کفن‘‘ کہنے لگے ہیں کیونکہ یہ بارہا حادثات کا شکار ہوئے اور درجنوں پائلٹ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس جدید JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے طیارے موجود تھے جبکہ ایئربورن ارلی وارننگ سسٹمز اور جیمرز بھی ساتھ تھے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے فضائی برتری حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کا معاملہ دراصل بھارت کی پروپیگنڈہ مہم کا حصہ تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی پائلٹ نے کبھی خود یہ نہیں کہا کہ اس نے F-16 کو مار گرایا ہے، اگرچہ بھارتی فضائیہ نے شور مچایا اور اسے تمغہ بھی دیا۔ ان کے بقول ابھی نندن کے اپنے بیانات اور انٹرویوز اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔

ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی نے اس موقع پر ماضی کی یادیں بھی تازہ کیں اور بتایا کہ 1959 اور اس کے بعد کے برسوں میں پاکستان کو خدشہ تھا کہ دشمن ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حکم دیا گیا کہ راولپنڈی سے فضائی نگرانی کی جائے کیونکہ وادی کشمیر سے دشمن طیارے چند منٹ میں حملہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی برس تک مختلف طیاروں کے ذریعے یہ ذمہ داری سرانجام دی گئی تاکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خبریں تھیں کہ اسرائیلی طیارے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملے کے لیے تیار ہیں تاکہ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو نئے F-16 طیاروں کی خریداری کے لیے 658 ملین ڈالر ادا کیے تھے لیکن یہ طیارے روک لیے گئے۔ ان کے مطابق امریکہ نے بدلے میں پاکستان کو گندم دینے کی پیشکش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان شدید خطرات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھے ہوئے تھا۔

ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی فضائی حکمت عملی ایمان، تربیت اور ٹیکنالوجی کو ساتھ ملا کر ترتیب دی ہے اور یہی عوامل اسے بھارت پر واضح برتری دلاتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی فضائیہ آج بھی پرانی ٹیکنالوجی کے باعث شدید مسائل کا شکار ہے جبکہ پاکستان نے اپنی جدید فضائی طاقت کے ذریعے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رکھی ہے۔

مزیدپڑھیں:تعلیمی اداروں میں منشیات کیس, 4 ماہ میں 709 ملزمان کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش

یہ بھی پڑھیں