Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط مان لی گئی

اسلام آباد(اوصاف نیوز) سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط مان لی گئی، گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے سامنے لائیں جائیں گے۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے، مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں، ایف بی آر نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے قواعد میں ترمیم کا مسودہ جاری کردیا۔

آئی ایم ایف شرائط کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کیے جائیں گے، ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پبلک سرونٹ کی نئی تعریف گریڈ 17 اور اس سے بالا افسران پر مشتمل ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، خودمختاراداروں اور کارپوریشنز کے افسران بھی شامل ہونگے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرزسے مجوزہ مسودے پر 7 دن کے اندر اندر آرا و تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔

ایف بی آر نے بتایا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد تعریف میں شامل نہیں ہونگے، ترمیمی قواعد اب پبلک سرونٹس پر لاگو ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مقررہ معیاد کے بعد موصول ہونے والی آرا و تجاویز کو قبول نہیں کیا جائے گا، مجوزہ ترامیم سول کی جگہ لفظ کے استعمال سے متعلق ہیں، ایف بی آر نے 7 روز میں تجاویز و اعتراضات طلب کرلیے ہیں۔

ایف بی آرحکام کا مزید کہنا ہے کہ ترامیم کا مقصد شفافیت اور انتظامی وضاحت بڑھانا ہے، اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلے کا نظام مزید مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

حکام نے ترمیم شدہ مسودے کے حوالے سے بتایا کہ اسے ترمیمی مسودہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں‌:ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی پلیئرز کی رینکنگ جاری

یہ بھی پڑھیں