Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

دہشت گردی کی کسی کارروائی کا جواب فوری اور فیصلہ کن ہوگا،افغانستان کو آئندہ کے لیے واضح پیغام

اسلام آباد ( نیوزڈیسک) پاکستانی حکام نے افغانستان کو آئندہ کے لیے سخت و واضح پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر طالبان کی کارروائیاں پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری رہیں تو ان کے مراکز اور سہولت کارانہ بیسز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پیغام میں یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ پاکستان اپنے سرحدی تحفظ اور اندرونی سلامتی کے لیے لازم اقدامات اٹھائے گا۔

پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ بیرونی دنیا کو افغانستان کے بہادری کے مناظرات سے متاثر ہونا ایک بات ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ افغانستان نے سوویت اتحاد کے خلاف امریکی مدد کے باعث کامیابی حاصل کی تھی اور تاریخی واقعات، جن میں تورا بورا کی شکست اور وہاں طالبان کی پسپائی شامل ہے، فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ پیغام میں افغان حکمران حلقوں کو خبردار کیا گیا کہ ان تاریخی حقائق کو مدِ نظر رکھیں۔

سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام افغان پناہ گزینوں کو نکالنے کے اقدامات کیے جائیں گے اور افغان حکومت انہیں بھارت بھیج سکتی ہے، جس کے ساتھ طالبان کے رابطوں کو پیغام کے متن میں بطورِ حوالہ ذکر کیا گیا ہے۔ بیان میں اس امر پر بھی اشارہ تھا کہ اگر طالبان یا اُن کے سپورٹ نیٹ ورکس پاکستانی علاقے میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں گے تو پاکستان اپنی دفاعی پالیسی کے تحت جو بھی ضروری کارروائی کرے گا۔

پیغام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان کے وہ مراکز جو خوارج یا پراکسی گروہوں کی حمایت فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں گی۔ سرکاری الفاظ میں یہ کہا گیا کہ ایسے مراکز کو خاک و خاش کر دینے کے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں تاکہ سرحد پار سے آنے والے خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

سیکورٹی ماہرین کے مطابق ایسے بیانات سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور دونوں جانب جوابِ عمل کے امکانات کو ہوا مل سکتی ہے، تاہم حکومتی حلقوں نے کہا ہے کہ یہ پیغام سرحدی تحفظ اور عوامی حفاظت کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ دفاعی ردعمل ممکن ہے، مگر حکومت سفارتی اور قانونی راستوں کو بھی بروئے کار لائے گی۔

عالمی و علاقائی برادری کی طرف سے ایسے بیانات پر ردِ عمل کا امکان ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے فوجی یا نیم فوجی اقدام کے قبل واضح ثبوت، بین الاقوامی مشاورت اور مناسب قانونی جواز ضروری ہوں گے۔ حکام نے فی الحال غیر ملکی شراکت داروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

تاریخی حوالہ جات اور سخت موقف کے بیچ، صورتِ حال پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ مسئلے کا دیرپا حل باہمی مذاکرات، بارڈر مینجمنٹ میں تعاون اور دہشت گردی کے اصل اسباب کو ختم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ حکومت نے عوامی تحفظ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں سرحدی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کو مقدم رکھے گی۔
مزیدپڑھیں:مرغی پھر مہنگی، قیمت میں حیران کن اضافہ

یہ بھی پڑھیں