لاہور( نیوزڈیسک)محکمہ ریلوے میں بغیر منظوری 50 رہائشی کوارٹر الاٹ کر دیے گئے، ڈویزنل سپرنٹنڈنٹ ورکشاپ ریلوے لاہور ڈویژن نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے کو مراسلہ بھجوا دیا۔
غیر قانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے درجنوں شکایات موصول ہوئیں جب ان شکایات پر تفصیلی سروے کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ 58 کوارٹرز کی الاٹمنٹ بوگس ہوئی ہے اور ان الاٹمنٹ لیٹروں پر متعلقہ افسران کے دستخط بھی موجود نہیں ہیں، یہ کوارٹرز پاکستان ریلویز کے مختلف شعبوں سے وابستہ افسران و ملازمین کو الاٹ کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوارٹرز کی الاٹمنٹ کے عوض کچھ لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی جانب سے کروڑوں روپے کمائے گئے ہیں۔اس حوالے سے بھی ڈی ایس ورکشاپ مغلپورہ کے پاس شواہد بھی ہیں اور انہی شواہد کی روشنی میں انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مدد مانگی ہے کہ بتایا جائے کہ غیر قانونی الاٹمنٹ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے اور جہنوں نے غیرقانونی الاٹمنٹ کروا کر ان کوارٹرز میں رہائش اختیار کر رکھی ہے ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر میں تعینات گریڈ 20کا افسر فارغ




