Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سندھ کا وفاق سے گندم کی قیمت پر اختلاف :کتنی قیمت مقرر کرنے کا کہہ دیا ؟تفصیلات سامنے آگئیں

سندھ (ویب نیوز) حکومت سندھ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی کم از کم امدادی قیمت 4200 روپے فی من مقرر کی جائے، تاکہ کسانوں کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کسانوں کو براہ راست امدادی قیمت فراہم نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسانوں کو سہارا دینے کے لیے وفاقی حکومت کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام کے تحت 56 ارب روپے کا بڑا امدادی پیکیج متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کسانوں کو کھاد، بیج اور دیگر زرعی ضروریات کے لیے فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سبسڈی کسانوں کی پیداواری لاگت کو کم کرنے اور زرعی شعبے کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

سردار محمد بخش مہر نے زور دیا کہ اگر وفاقی حکومت گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کرتی ہے تو اس سے نہ صرف کسانوں کو بہتر معاوضہ ملے گا بلکہ ملک میں زرعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں تقریباً 6.2 ملین ٹن کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی، گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے گندم پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے مطابق گندم کی فی من قیمت 3500 روپے مقرر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : پاکستان میں آج ڈالر کے ریٹ

یہ بھی پڑھیں