Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات: سیاسی ماحول کشیدہ، فارم 45–47 کے تنازعات دوبارہ جنم لینے کا خدشہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملک میں کل قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے سات حلقوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں، خصوصاً این اے 18 اور این اے 129 میں جہاں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میدان میں موجود ہیں، جب کہ دیگر حلقوں میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

سیاسی جماعتوں میں لفظی جنگ بھی تیز ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ ضمنی انتخابات میں فارم 45 اور فارم 47 کے حوالے سے کوئی تنازع جنم نہیں لے گا اور عوام کا نظام پر اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن تینوں صوبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کل مکمل طور پر شفاف ماحول میں پولنگ ہو۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ڈی بیٹ ایٹ 8 میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے قانونی مشیر فیصل چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب میں “لیول پلیئنگ فیلڈ” موجود نہیں اور حکومت مخالف جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی دفاتر پر چھاپے، کارکنوں کی گرفتاریاں اور سیاسی پابندیاں عوام کا اعتماد مجروح کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر آزادانہ انتخابات ہوئے تو نتائج حکومتی دعوؤں کے برخلاف رونما ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شائلہ رضا نے الیکشن میں حکومتی وزرا کی مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جماعت کو جلسے جلوس سے روکنا غلط ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں، تاہم اتحادی حکومت میں ہوتے ہوئے اصلاحاتی فیصلوں پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف رپورٹ کی روشنی میں تمام صوبوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

آئی ایم ایف رپورٹ پر سیاسی ہلچل

آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ جاری ہوتے ہی سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ میں مختلف سرکاری شعبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے اشارے دیے گئے ہیں، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ رپورٹ تین ماہ تک چھپائے رکھا، جب کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ رپورٹ میں درج ہر مشاہدہ لازمی طور پر کرپشن کا ثبوت نہیں ہوتا اور بہت سی آڈٹ ایڈجسٹمنٹس کو بھی غلط طور پر ’’ریکوری‘‘ کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔

حذیفہ رحمان نے کہا کہ اگر رپورٹ میں کسی بے ضابطگی کی نشاندہی ہوئی ہے تو یہ صرف ایک صوبے کا نہیں، پورے ملک کے نظم و نسق کا مسئلہ ہے، کیونکہ تمام بڑی جماعتیں مختلف صوبوں میں اقتدار میں رہی ہیں۔

فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ خراب گورننس، زبردست بدعنوانی اور غیر شفاف پالیسیوں نے ملک میں سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کے طریقہ کار میں بنیادی اصلاحات کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کا احتجاج اور جھڑپیں

گزشتہ روز کراچی میں وکلا نے ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کیا۔ وکلا کا کہنا تھا کہ بار نے ایک سمپوزیم کے انعقاد کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد پولیس اور وکلا کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں دونوں جانب سے تشدد اور پتھراؤ کی اطلاعات آئیں۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وکلا برادری ایک بڑا احتجاجی سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔

سیاسی کشیدگی اور عوامی اعتماد کا سوال

ملک میں ضمنی انتخابات سے ایک روز قبل سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہے۔ ایک جانب حکومت انتخابی اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہے، جب کہ اپوزیشن شفاف انتخابات کے انعقاد پر شکوک کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ، مہنگائی، گورننس کے مسائل، اور سیاسی تنازعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انتخابات کے نتائج اور اس کے بعد سامنے آنے والی صورتحال یہ طے کرے گی کہ آیا عوام کا نظام پر اعتماد بڑھے گا یا سیاسی تنازعات مزید گہرے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں