Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وفاقی وزیر علیم خان سے تلخ کلامی کی اصل وجہ بتادی ہے۔

پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا میرا حق تھا۔ جب وہ ایجنڈے میں معاملہ شامل کروایا تو اس پر وفاقی وزیر علیم خان کو جواب دینا پڑا، تو وہ بھڑک اٹھے۔ ان کو برا لگا کہ یہ کیوں پوچھا گیا۔ علیم خان سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایماندار آدمی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی سڑک بن گئی ہے جس پر پاکستان کے لوگوں نے اپنا پیسہ لگایا ہے۔ اگر کوئی سوسائٹی اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے تو ہم کیوں نہ ان سے سوال کریں؟ جس پر علیم خان بھڑک اٹھے۔


ان کا کہنا تھا کہ وہ روڈ 10 کلو میٹر کے فاصلے سے اسی ہاؤسنگ سوسائٹی سے جا کر ملتی ہے۔ علیم خان نے کہا کہ آپ سب بے ایمان اور بلیک میلر اکٹھے ہو کر ہم سے سوال کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا حوالہ دیا کہ کسی نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اس وزارت کو سوسائٹی کی طرح چلا رہے ہیں، وہ غصے میں یہاں آئے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ شہباز شریف کی کابینہ کے ممبران کا یہ رویہ ہے، ایسے لوگ جن کی پارٹی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کی ہے اور وہ کہاں سے آئے ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کسی ایسوسی ایشن کی بنیاد پر ہمیں دھمکائیں گے اور ہم ڈر جائیں گے اور ہم اپنے سوال کرنے کے حق سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ وزیر مواصلات علیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان کمیٹی اجلاس کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

ویڈیو میں علیم خان کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جیسا ٹریٹ کیا جائے گا، ہم ویسا ہی جواب دیں گے۔ اگر ہماری ذات پر بات کی جائے گی تو ہم بھی اسی سطح پر جواب دیں گے۔ ہم نے تو اپنا موقف واضح کر دیا ہے لیکن جب ان کی ذات پر بات آئے گی تو ان کے پاس جواب نہیں ہوگا۔ تاہم ہم اس سطح پر گرنا نہیں چاہتے جس پر وہ گر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم 11 شدید دھند کے باعث بند

یہ بھی پڑھیں