اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جہیز ایک لعنت ہے لیکن جب اس پر پابندی کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو منظور ہی نہیں کیا گیا۔
جہیز ایک لعنت ہے۔ جہیز کا سارا بوجھ لڑکی کے والدین پر پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو غریب والدین یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتے، ان کی بیٹیوں کے سَروں میں باپ کی دہلیر پر ہی چاندی اتر آتی ہے۔
معاشرے کی فرسودہ اور منفی روایت کے خلاف رکن قومی اسمبلی شرمیلہ فاروقی نے ایک بل پیش کیا۔ اس بل کا مقصد جہیز کو غیر قانونی قرار دینا اور اس پر سخت سزائیں مقرر کرنے جیسی اہم تجاویز شامل تھیں۔
پی پی کی خاتون رکن اسمبلی کے اس بل میں والدین کو بیٹی کی شادی پر صرف رضاکارانہ تحائف دینے کی اجازت شامل تھی۔ اس بل پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بحث بھی ہوئی۔
شرمیلہ فاروقی نے بل کی حمایت میں اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں جہیز کے معاشرتی نقصان اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل جیسے لڑکیوں کی زندگیوں پر دباؤ، مالی بوجھ، شادیوں میں امتیازی رویے اور بعض صورتوں میں تشدد کے واقعات پر روشنی ڈالی۔
تاہم کمیٹی نے عوامی نوعیت کے اس اہم بل کو مسترد کر دیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اس بل کو مسترد کرنے کی وجہ ممکنہ طورپر معاشرتی روایات، قانونی پیچیدگیوں اور نافذ کرنے میں دشواریوں کو قرار دیا۔
مزیدپڑھیں:بھارتی وزیر دفاع پاکستان دشمنی میں ’’فلمی ڈائیلاگ‘‘ بول گئے!




