Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا فریم ورک متعارف کرادیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کے لیے نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کر دیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے ہوں گے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد پی پی پی منصوبوں سے حکومت پر پڑنے والے مجموعی مالی دباؤ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا ہے۔

دستاویزات میں کہنا تھا کہ پی پی پی منصوبوں سے حکومت پر مجموعی مالی دباؤ تقریباً 472 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں 368 ارب روپے ہنگامی نوعیت کے واجبات شامل ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافے کے مدنظر 150 ارب روپے کے مزید واجبات شامل کیے گئے ہیں۔ مجموعی واجبات میں مالی گارنٹیز کا حصہ 104 ارب روپے بنتا ہے۔

ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے تحت 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، جس میں سندھ میں سب سے زیادہ مالی خطرہ، مجموعی رقم 335.6 ارب روپے، ریکارڈ کیا گیا ہے، وفاقی حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کا دباؤ ہے جبکہ پنجاب کے منصوبوں سے 26.5 ارب روپے کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے عارضی تخمینوں پر مبنی ہیں اور پی پی پی معاہدوں کے مالی خطرات عام بجٹ میں فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔

اب نئے فریم ورک کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے مالی خطرات اور قرضہ جات رپورٹس میں شامل ہوں گے، جس میں کم از کم آمدن کی گارنٹی اور شرح سود بھی شامل ہوگی۔ مزید برآں، ڈالر ریٹ اور لاگت میں اضافہ بھی بڑے خطرات کے زمرے میں شامل ہوگا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ تمام صوبے اور وفاق ہر چھ ماہ بعد پی پی پی منصوبوں کی رپورٹ فراہم کریں گے تاکہ مالی خطرات کی مکمل شفافیت اور مؤثر مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔
مزیدپڑھیں:وینزویلا کے صدر مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

یہ بھی پڑھیں