اسلام آباد: پاکستان امریکہ ایران ثالثی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ ڈیڈ لائن قریب آتے ہی سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
گزشتہ دو دنوں میں پاکستان نے بھرپور سفارتی رابطے کیے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ابھی بھی برقرار ہیں۔
چین اور روس بھی اس عمل میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی شمولیت ایران کے اعتماد کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار سمجھی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن کسی بھی تجویز کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کچھ رپورٹس میں 45 روزہ جنگ بندی کی بات کی جا رہی ہے، مگر حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
ایران نے محتاط ردعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دباؤ کے تحت مذاکرات ممکن نہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ان کی شرائط میں خطے میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں۔
پاکستان اس بحران میں اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس نے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق فوری پیش رفت مشکل ہے، تاہم سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
