Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

1950 کی دہائی کا نایاب 100 روپے کا نوٹ بنگلہ دیش سے پاکستان واپس آ گیا

اسلام آباد(islamabad) میں ایک منفرد اور تاریخی نوعیت کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 1950 کی دہائی کا ایک نایاب 100 روپے کا پرانا نوٹ بنگلہ دیش سے پاکستان لایا گیا، جس نے دونوں ممالک کے مشترکہ ماضی کی یادیں تازہ کر دیں.

عرب نیوز کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نور عالم چوہدری اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آئے اور یہ تاریخی نوٹ بطور خاندانی ورثہ اپنے ساتھ لائے۔ بعد ازاں انہوں نے اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران یہ نوٹ پاکستانی مصنف محمد علی اکبر کو بطور تحفہ پیش کیا۔

یہ نوٹ 1957 میں جاری کیا گیا تھا اور اس پر انگریزی، اردو اور بنگالی زبانوں میں تحریریں درج ہیں، جبکہ اس پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر بھی موجود ہے۔ یہ نوٹ اس دور کی یادگار ہے جب موجودہ بنگلہ دیش، پاکستان کا حصہ تھا۔

مزیدپڑھیں:اسلام آباد ڈرائی پورٹ میں 24 کنٹینرز کی کلیئرنس مشکوک قرار، چیف کلکٹر نے کارروائی روک دی، دوبارہ معائنہ شروع

نور عالم چوہدری کے مطابق یہ نوٹ صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ اور ثقافتی رشتوں کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یادگار ماضی کی ان جھلکیوں میں سے ایک ہے جو آج بھی لوگوں کو قریب لاتی ہیں۔

محمد علی اکبر نے اس تحفے کو نہایت اہم اور علامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو سمجھنا مستقبل کی بہتر سمت متعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی یادگاریں دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی روابط اور حالیہ بہتر ہوتے تعلقات کی ایک خوبصورت اور جذباتی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں