نیپرا (NEPRA)نے سولر لائسنسنگ سے متعلق پھیلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور کسی نئے ٹیکس یا غیر معمولی پابندی کا نفاذ نہیں کیا گیا۔
ادارے کے حکام کے مطابق صرف وہ صارفین جو آن گرڈ یا نیٹ بلنگ سسٹم کے تحت بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں نیپرا کے قواعد کے مطابق منظوری درکار ہوگی۔ اس کے برعکس آف گرڈ صارفین، جو مکمل طور پر اپنی سولر بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کا نیپرا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
مزیدپڑھیں:مئی 2026 کے دوران 11 سرکاری چھٹیاں متوقع؟
حکام نے مزید بتایا کہ 25 کلو واٹ تک کے سولر کنکشنز کی منظوری پہلے ہی تقسیم کار کمپنیوں کے دائرہ اختیار میں تھی، جبکہ اس سے زیادہ صلاحیت کے منصوبوں کی منظوری نیپرا دیتی رہی ہے۔ نئے قواعد میں اس بنیادی طریقہ کار میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔
نیپرا کے مطابق آن گرڈ سولر کنکشن کے لیے صرف ایک مرتبہ ایک ہزار روپے فی کلو واٹ فیس مقرر ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ اطلاعات درست نہیں کہ سولر سسٹمز پر کوئی نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
ادارے نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔


