Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مفت مویشی، وزیراعلیٰ مریم نواز نے خوشخبری سنادی

پنجاب میں لائیواسٹاک کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد گوشت کی پیداوار اور ایکسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif کی ہدایت پر صوبے میں لائیواسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 10 لاکھ جانور برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے گوشت کی برآمد سے متعلق چین کی ایک بڑی کمپنی سمیت 7 مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت چین کی کمپنی Global Meat Company اور مقامی ادارے PAMCO کے اشتراک سے پنجاب میں جدید بوائلر یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں برآمد کے لیے گوشت کی تیاری بڑے پیمانے پر کی جائے گی۔

حکومتی منصوبے کے مطابق 3 لاکھ گائے اور بھینسیں جبکہ 3 لاکھ مینڈھے فِٹنگ کے عمل سے گزارے جائیں گے تاکہ انہیں برآمدی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر 20 لاکھ جانوروں کی ٹیگنگ بھی مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ مویشیوں کی ٹریکنگ اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے لائیواسٹاک کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ہر تحصیل میں جدید سہولیات سے آراستہ ویٹرنری اسپتال قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ مویشیوں کے علاج کے لیے چار موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں بھی فعال کی جائیں گی۔

مزیدپڑھیں :پاکستان میں ایرانی ریال خریدنے والوں کے لئے بڑی خبر

دیہی معیشت میں بہتری کے لیے خواتین کو مویشی فراہم کرنے کے پروگرام کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس کے تحت مفت مویشی دینے کا کوٹہ دگنا کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، لائیواسٹاک مشینری کی خریداری پر حکومت کی جانب سے 60 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جائے گی، تاکہ فارمنگ کے عمل کو جدید اور مؤثر بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب میں لائیواسٹاک فارمنگ کو بڑے پیمانے پر میکانائز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات صوبے کی معیشت، برآمدات اور دیہی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں اس اہم شعبے کو مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں