حیدرآباد(Hyderabad) میں دودھ کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو ایک بار پھر مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں دودھ کی نئی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے۔ ڈیری فارمرز اب دودھ 210 روپے فی لیٹر ہول سیلرز کو فراہم کریں گے، جبکہ ہول سیل قیمت 215 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دکانداروں کے لیے ریٹیل قیمت 230 روپے فی لیٹر لازمی قرار دی گئی ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں مختلف شہروں میں دودھ سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان نے دنیا میں اہم سنگ میل عبور کر لیا
کراچی میں بھی دودھ کی قیمت بڑھ کر 240 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے قبل تقریباً 220 روپے تھی۔ دکانداروں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور سپلائی لاگت بڑھ گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھریلو بجٹ متاثر کر دیا ہے اور بنیادی اشیاء بھی اب پہلے سے زیادہ مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔


