شجاع آباد میں ایک غیر معمولی اور توجہ حاصل کرنے والی اجتماعی شادی(mass wedding) کی تقریب منعقد ہوئی، جہاں ایک ہی خاندان کے 9 نوجوانوں نے اپنی ہی 9 کزنز کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک مثال قائم کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تقریب مکمل سادگی اور سنتِ نبوی کے مطابق منعقد کی گئی، جس میں نہ تو جہیز لیا گیا اور نہ ہی شادی کو غیر ضروری اخراجات کا ذریعہ بنایا گیا۔ دلہن والوں اور دلہنوں کے خاندان کی باہمی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ شادی کو آسان اور کم خرچ رکھا جائے۔
دولہوں میں محمد کاشف، محمد عاصم، محمد امین، محمد نعیم، محمد نوید، محمد راشد، محمد بلال، محمد شہباز اور محمد علی شامل تھے، جنہوں نے مشاورت کے بعد یہ طے کیا کہ وہ کسی بھی قسم کا مالی بوجھ دلہن والوں پر نہیں ڈالیں گے۔
تقریب میں ایک ہی دن 9 باراتیں آئیں اور پھر مشترکہ طور پر ولیمے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس نے اس تقریب کو منفرد بنا دیا۔ سادگی کے باوجود شادی میں شریک افراد کے مطابق ماحول خوشی اور جوش و خروش سے بھرپور تھا۔
مزیدپڑھیں:کاجول نے 30 سال بعد اصول توڑ کر بوسے کے سین کیوں فلمائے؟ اداکارہ کا انکشاف
خاندان کے افراد کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کوئی ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو یہ پیغام دینا تھا کہ اگر شادیوں کو آسان بنایا جائے تو نوجوانوں کے لیے رشتہ ازدواج میں بندھنا زیادہ سہل ہو سکتا ہے اور کسی بیٹی کو گھر بیٹھنے کی نوبت نہیں آتی۔
یہ اجتماعی شادی سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے، جہاں صارفین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت سماجی مثال قرار دیا ہے، جبکہ کئی لوگوں نے اسے سادگی اور روایتی رسومات سے ہٹ کر ایک عملی تحریک کے طور پر دیکھا ہے۔


