وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی تیل کی درآمدی لاگت میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے سرکاری ملازمین (Government employees)کو الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت تقریباً 76 ہزار سے 1 لاکھ کے قریب اہل سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ منصوبہ اس وقت انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی سطح پر حتمی منظوری کا منتظر ہے، جبکہ اسے وزیراعظم آفس میں بھی حتمی جانچ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
سبسڈی اور مالی ڈھانچہ
حکومتی منصوبے کے مطابق ہر الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔ اس میں سے 30 ہزار روپے بینکوں کو مارک اپ/سود میں معاونت کے طور پر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 50 ہزار روپے براہِ راست درخواست گزار کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے جائیں گے۔
پلاسٹک کو ایندھن میں تبدیل کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف سرکاری ملازمین کے سفری اخراجات کم کرنا ہے بلکہ ملک میں پیٹرول پر انحصار بھی کم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
کون اہل ہوگا؟
اس اسکیم کے لیے صرف وہ سرکاری ملازمین اہل ہوں گے جن کی تنخواہیں اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ذریعے جاری ہوتی ہیں۔ درخواست دینے کے لیے ملازمین کو AGPR سے تصدیقی خط جمع کرانا ہوگا، جبکہ کسی ذاتی گارنٹی کی شرط نہیں رکھی گئی۔
حکام کے مطابق سبسڈی صرف اسی صورت میں جاری کی جائے گی جب بائیک درخواست گزار کے نام پر باقاعدہ رجسٹرڈ ہو جائے گی۔
صحافیوں کے لیے خصوصی کوٹہ
منصوبے کے تحت صحافیوں کے لیے بھی خصوصی کوٹہ رکھا گیا ہے، تاہم انہیں یہ سہولت اقساط کے بجائے خود مالی ادائیگی (self-financed) کی بنیاد پر دی جائے گی۔ بعد میں اس اسکیم کے دوسرے مرحلے میں خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ کوٹہ بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے کے مسائل
رپورٹ کے مطابق اسکیم کے پہلے مرحلے میں ڈیٹا ویری فکیشن کے مسائل سامنے آئے تھے، کیونکہ بعض درخواست گزاروں کی تصدیق میں تکنیکی مشکلات پیش آئیں۔ تاہم اس کے باوجود ابتدائی مرحلے میں تقریباً 40 ہزار شہریوں کو سبسڈی فراہم کی جا چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوا تو ملک میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو ماحولیات اور معیشت دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔


