پنجاب اسمبلی(Punjab Assembly) نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور اجرت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم قانون سازی کرتے ہوئے کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے سے متعلق ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ملازمین سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ اس ترمیم کے تحت قانون میں موجود پرانی شقوں کو موجودہ معاشی حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قرارداد کے متن میں بتایا گیا کہ صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر ہو چکی ہے، تاہم 1965 کے قانون میں زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22 ہزار روپے درج ہے، جس کے باعث قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔
نئے مجوزہ قانون کے تحت اس تضاد کو ختم کرنے اور سوشل سیکیورٹی کے نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مزدوروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جولائی 2022 سے ادا کی جانے والی سوشل سیکیورٹی شراکتوں کو قانونی تحفظ دینا ضروری ہے، کیونکہ پرانے قانون کی وجہ سے اداروں کو مختلف مسائل کا سامنا تھا۔
حکام کے مطابق اس ترمیم کا مقصد مزدوروں کے حقوق کا بہتر تحفظ، ادارہ جاتی شفافیت اور قانونی نظام میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ بل کی حتمی منظوری کے لیے اسے اب گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔


