پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن (lockdown)میں جزوی نرمی کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت کئی اہم شعبوں کو پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسپورٹس سینٹرز، جم، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد روزگار کے مواقع بڑھانا اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو معاشی سرگرمیوں میں زیادہ شامل کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام لاک ڈاؤن کے دوران معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے اور کاروباری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاہم تمام اداروں کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں اوقات کار سے متعلق ابہام دور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) علی اعجاز نے واضح کیا ہے کہ ریسٹورنٹس اور شادی ہال رات 10 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مقررہ وقت کے بعد اندر کوئی گاہک موجود نہ ہو۔
ان کے مطابق شہر میں عام مارکیٹوں کا وقت رات 8 بجے تک مقرر ہے، جبکہ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس بدستور جاری رہے گی۔ تاہم اوقات کار مکمل ہونے کے بعد کسی بھی قسم کی اندرونی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اگر کسی مقام پر دکانیں یا کاروباری مراکز مقررہ وقت سے پہلے بند کروائے جائیں تو شہری براہِ راست ضلعی انتظامیہ کو شکایت درج کرا سکتے ہیں، تاکہ فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومت کا شہریوں کو گھر بیٹھے پاسپورٹ اپلائی کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ
ادھر وفاقی دارالحکومت میں نافذ سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت بھی مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کی ہدایت جاری ہے، جبکہ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز رات 10 بجے تک کھلے رہ سکتے ہیں۔ ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروسز پر کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ضروری خدمات جیسے تندور، میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپ، سی این جی اسٹیشن اور بیکریز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہے، تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ ایک طرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش ہے، جبکہ دوسری طرف شہریوں کو ایس او پیز کے تحت احتیاطی تدابیر اپنانا اب بھی انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ صحتی بحران سے بچا جا سکے۔


