Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بجٹ 27 – 2026 : تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

اسلام آباد: وفاقی حکومت(Federal Government) آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں اہم ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت براہِ راست تنخواہوں میں اضافے کے بجائے ٹیکس بوجھ میں کمی کی پالیسی اپنائے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ اور متعلقہ اقتصادی ٹیمیں اس وقت مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہیں جن کا مقصد تنخواہ دار طبقے پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس بات کے حامی ہیں کہ تنخواہوں میں اضافے کے بجائے ٹیکس کی شرحوں میں کمی اور ٹیکس چھوٹ کی حد میں اضافہ کیا جائے۔

حکومتی حکمت عملی کے تحت اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بڑے اضافے کے بجائے ممکنہ بچت کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ اکثر ملازمین کو اعلیٰ ٹیکس سلیب میں لے جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اصل فائدہ محدود رہ جاتا ہے، اس لیے ٹیکس میں کمی کو زیادہ مؤثر حل سمجھا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 425 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا ہے، جو ریئل اسٹیٹ، ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔

دوسری جانب پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے پہلے ہی 20 سے 35 فیصد تنخواہ میں اضافے کی منظوری دی جا چکی ہے، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔

عمرا ن خان کا مستقبل اُن کے اپنے ہاتھوں میں ہے، رانا ثناء

ذرائع کے مطابق ٹیکس ریلیف کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں مزید کٹوتی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تمام تجاویز پر حتمی فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 15 مئی سے شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔

حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ میں حتمی پالیسی اسی مشاورت کے بعد طے کی جائے گی تاکہ مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں