پشاور: گلیات جنگلات حدودات سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے سیکرٹری ماحولیات خیبرپختونخوا اور ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کو 10 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام عدالت کے سابقہ احکامات پر عملدرآمد میں ناکامی کی وضاحت پیش کریں۔
پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گلیات کے جنگلات کی حدود کی بحالی کے لیے قائم کمیٹی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس دوران قیمتی وقت ضائع کیا گیا۔ عدالت نے کمیٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پیش کردہ رپورٹ کو مسترد کر دیا۔
حکم نامے میں عدالت نے رپورٹ کو ایک “جعلی مشق” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود جنگلات کی اصل حدود بحال نہیں کی جا سکیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
گلیات جنگلات حدودات کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ جنگلاتی اراضی کے تحفظ اور حدود کے تعین سے متعلق احکامات پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ اور وضاحت کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ماہرین کے مطابق گلیات کے جنگلات ماحولیاتی تحفظ، سیاحت اور قدرتی حسن کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی حدود کے تعین اور تحفظ کے معاملے پر عدالتی نگرانی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



