آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آزاد کشمیر مہاجرین نشستیں برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک اہم اور متفقہ قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد کو ایوان میں مکمل اتفاق رائے کے ساتھ منظور کیا گیا جسے مختلف سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مظفرآباد میں ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران یہ قرارداد پانچ وزراء کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی، جن میں وزیر قانون میاں وحید بھی شامل تھے۔ قرارداد کی منظوری کے دوران ایوان کے تمام اراکین نے اس کی حمایت کی۔
قرارداد کے متن میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے کردار کو سراہا گیا۔ ایوان نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کی نمائندگی آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی نظام کا ایک اہم حصہ رہی ہے اور اسے ایک تاریخی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر مہاجرین نشستیں صرف نمائندگی کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیر کاز سے وابستہ لاکھوں مہاجرین کے حقوق اور سیاسی شمولیت کی علامت ہیں۔ ایوان نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات کا اختیار صرف عوام کے منتخب نمائندوں اور قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے۔
اسمبلی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آئینی معاملات اور اصلاحات سے متعلق ہر قسم کی بحث اور فیصلہ سازی کا فورم صرف قانون ساز اسمبلی ہے۔ اراکین نے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ کسی بھی آئینی تبدیلی پر فیصلہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ہی ہونا چاہیے۔
قرارداد کی منظوری کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قرارداد مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔



