لاہور: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سم ایکٹیویشن پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نئی سموں کے لیے پابندی کی مدت 60 دن سے بڑھا کر 365 دن کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شناختی چوری، غیر قانونی سموں کے اجرا اور بائیومیٹرک نظام کے غلط استعمال کی روک تھام بتایا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق نئی سم کے اجرا کے بعد اسے ایک سال مکمل ہونے سے قبل نہ تو بند کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کے نام منتقل کیا جا سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کام سیکٹر میں شفافیت بڑھانے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ گورنمنٹ افیئرز احمد شمیم نے بتایا کہ نئی سم ایکٹیویشن پالیسی کے تحت صارفین کو زیادہ احتیاط سے بائیومیٹرک تصدیق کرانی ہوگی کیونکہ ایک بار سم ایکٹیو ہونے کے بعد اس پر ایک سال تک مخصوص پابندیاں لاگو رہیں گی۔
پی ٹی اے نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سموں کی تفصیلات ضرور چیک کریں۔ صارفین سم انفارمیشن سسٹم کے ذریعے یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کے نام پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی موبائل فون صارفین کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں سموں کے استعمال کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
پی ٹی اے نے حال ہی میں یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی دوسرے فرد کے استعمال میں ہو تو اس کے قانونی نتائج اصل رجسٹرڈ مالک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے شہریوں کو اپنی رجسٹرڈ سموں کی نگرانی اور تصدیق باقاعدگی سے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی سے جعلی اور غیر قانونی سموں کے اجرا میں کمی آئے گی جبکہ موبائل صارفین کے ڈیٹا اور شناخت کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔




