Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

12 مہاجر نشستوں کا مستقبل، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا اہم حکم

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے آئینی اور قانونی مستقبل سے متعلق حکومت کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔

چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی اور قانونی نکات عدالت کے سامنے پیش کیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ ریاست کے آئینی ڈھانچے، انتخابی عمل اور جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، اس لیے مختلف حلقوں کی آراء اور تجاویز حاصل کرنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے قائد ایوان، قائد حزب اختلاف، تمام ارکان قانون ساز اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سینئر وکلاء، سپریم کورٹ بار اور ہائی کورٹ بار کے صدور سمیت عوام کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریق اپنی تحریری آراء اور تجاویز مقررہ وقت تک سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں یا 6 جون کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کریں۔

حکومتی ریفرنس میں پانچ بنیادی آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں جن میں مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت، ان کے خاتمے یا تبدیلی کے طریقہ کار، عوامی دباؤ کے ذریعے آئینی ترامیم کی قانونی حیثیت اور موجودہ اسمبلی کے اختیارات شامل ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جو دو ملین سے زائد مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حکومت کے مطابق ان نشستوں کا وجود صرف انتخابی انتظام نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، حق خودارادیت اور تاریخی مؤقف کی علامت ہے۔

ریفرنس میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر کا حصہ ہے، جبکہ اس معاملے پر ہڑتالوں، لانگ مارچز اور احتجاجی اعلانات کے باعث انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

عدالت نے مختلف فریقین سے رائے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس آزاد کشمیر کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں