Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

آزاد کشمیر حکومت کا عوامی ایکشن کمیٹی پر سخت ردعمل، انتخابات میں رکاوٹ برداشت نہیں ہوگی

مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے جاری احتجاجی سرگرمیوں اور بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مسائل کے حل کو ترجیح دی جبکہ جے اے اے سی نے دباؤ اور احتجاج کی سیاست کو اپنا راستہ بنایا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات منظور کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی توثیق کر کے جمہوری اتفاقِ رائے کا واضح پیغام دیا ہے۔ اسمبلی ریاست کا اعلیٰ ترین نمائندہ ادارہ ہے اور اس کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

آزاد کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم سڑکیں بند کرنا، معمولاتِ زندگی متاثر کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے خبردار کیا کہ امن و امان خراب کرنے یا انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہڑتالوں، دھرنوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے آئینی اور جمہوری راستوں پر اعتماد کریں۔ ترجمان کے مطابق آزاد کشمیر کو اس وقت مسلسل احتجاج نہیں بلکہ استحکام، مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

حکومت نے واضح کیا کہ آئندہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور کسی کو بھی جمہوری عمل متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں