Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں فوری تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد انتظامی ڈھانچہ مستقبل میں کس انداز سے چلایا جائے، اس حوالے سے جاری بحث پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے اہم وضاحت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے انتظامی نظام میں تبدیلی کے لیے فی الحال کوئی قانون سازی زیر غور نہیں اور نہ ہی کسی فوری فیصلے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق اسلام آباد کے انتظامی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے مختلف تجاویز اور آپشنز کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے متعدد اجلاسوں میں اسلام آباد کو تین ٹاؤنز میں تقسیم کرنے سمیت کئی انتظامی ماڈلز پر غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامی ڈھانچہ بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کو بھی بااختیار بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل منتقل کیے بغیر بڑے شہروں کے مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑے شہروں کو مضبوط اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اسی لیے پاکستان میں بھی مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات اگست یا ستمبر میں منعقد ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کسی جماعت کا کلین سویپ کرنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) 22 میں سے 15 حلقوں میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی بھی چند نشستوں پر مؤثر مقابلہ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہمات اور جلسوں میں سخت بیانات معمول کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم اصل توجہ عوامی مسائل کے حل اور مؤثر حکمرانی پر ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں