لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کو آئندہ تین سال کیلئے فکس کیا جائے اور پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، بصورت دیگر عوامی احتجاج کی کال دی جائے گی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت ہر ہفتے عوام پر نئے معاشی بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ اپنی شاہ خرچیوں میں کمی کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور سب سے زیادہ ٹیکس بھی یہی طبقہ ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کو مکمل ٹیکس استثنیٰ دیا جائے اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں مسلسل ردوبدل اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کیے جانے والے بھاری ٹیکس کسی ظلم سے کم نہیں۔ ان کے مطابق حکومت آج بھی عوام سے فی لیٹر 105 روپے تک لیوی وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگی توانائی اور ایندھن کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، جبکہ حکومت اپنی معاشی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر بڑے شہروں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم اور صحت کی خدمات فراہم کرنے میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔
انہوں نے صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی کیلئے حکومتی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔




